میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ تھما سکو تو چلو
Poet: MZ By: MZ, karachiمیرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ تھما سکو تو چلو
زندگی بھر یہ ساتھ نبھا سکو تو چلو
جو زمانہ چھوڑ جائے مجھے ٹھوکر لگنے پر
اپنے سہارے سع مجھے اٹھا سکو تو چلو
غموں کی تیز بھڑکتی آگ کے شراروں سے
میری خوشیوں کا دامن بچا سکو تو چلو
میری پلکھوں پہ اگر سانسوں کا بوجھ بڑھ جائے
کچھ بوجھ اپنی پلکھوں پہ اٹھا سکو تو چلو
میری زندگی تو ھے اندھیری رات کی طرح
جگنو بن کر راستہ دکھا سکو تو چلو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







