میرے ہم نوا میرے ہمسفر تیرا وعدہ ہم تو نبھائیں گے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaمیرے ہم نوا میرے ہمسفر تیرا وعدہ ہم تو نبھائیں گے
جو قرار ہم میں و تم میں تھا اسے اور پختہ بنائیں گے
کبھی بے خودی میں ملیں گے ہم تبھی راز دل بھی کہیں گے ہم
جو دلوں میں تھیں کبھی حسرتیں تو انھیں کو اب تو مٹائیں گے
نہ تو ظلمتوں میں رہے کوئ نہ تو نفرتوں کو فروغ ہو
تو محبتوں کے چراغ کو اسی تیرگی میں جلائیں گے
نہ ملے کبھی کوئ تشنہ لب تو پھرایسی ساقی گری ہی ہو
کوئ امتیاز نہ ہوکبھی تو سبھی کی پیاس بجھائیں گے
ترے دم سے ہے مری زندگی تو مجھے کسی کا بھی غم نہیں
جو بھنور میں کشتی پھنسے کبھی ترے دم سے پار لگائیں گے
یہی اثر کی تو ہے آرزو کہ اسی پہ اس کو قرار ہے
نہ کسی کے در پہ یہ سر جھکے نہ کسی پہ نظریں جمائیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






