میرے یار ہو تم
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAاے دوست تم کیا جانو کے تم میرے کیا ہو
میں پیاسا ہوں تم ساون کی گھٹا ہو
میرا چمن میری بہار ہو تم دل کےمختار ہو تم
خزاں میں بہار ہوتم میرےدل کا قرار ہو تم
جس کا کوئی ثانی نہیں وہ دلدار ہو تم
جس نے مجھے پیار دیا ایسے یار ہو تم
میرے غم خوار ہو تم
میرا گلشن میرا گلزار ہو تم
میرا پہلا اور آخری پیار ہو تم
مجھے آزماتے کیوں بار بار ہو تم
میری زندگی میرا اعتبار ہو تم
بڑے شیریں گفتار ہو تم
آج سبک رفتارو تم
کیا بیمار ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







