میں اپنی زندگانی سُناتا ہوں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaچلو اِک کہانی سُناتا ہوں
میں اپنی زندگانی سُناتا ہوں۔
کس طرح لُوٹا اُس نے مجھے
اِک بات پرانی سُناتا ہوں
بڑی عزیز تھی مجھے
مرے دل میں رہا کرتی تھی
وہ لڑکی اکثر مجھے
جان جان کہا کرتی تھی
اُس لڑکی نے جو کی مرے ساتھ
تُم کو آج اُس کی شیطانی سُناتا ہوں
اِک روز مجھ سے کہتی ہے
ترے جیسے بہت مل گئے
اب تُو جا یہاں سے
مجھے نئے دوست مل گئے
میں دیکھتا رہا اُس کو اور وہ کہتی رہی
میں اپنے چہرے کی آج حیرانی سُناتا ہوں
اُس کی محفل سے ہم
بدنام ہو کے یُوں نکلے
رونے لگے تو آنسوبن کے
آنکھوں سے خون نکلے
اُس رات بکھڑ گیا میں تِنکوں کی مانند
وہ رات تھی کتنی طوفانی سُناتا ہوں
بس اب یونہی ہر ورکے پے
میں اُس کا خیال لکھتا ہوں
تنہا رو رو کے یہ کہانی
میں اکثر نہال لکھتا ہوں
اور کچھ دوستوں کے سنگ بیٹھ کے
یہی درد بھری اپنی کہانی سُناتا ہوں
میں اپنی زندگانی سُناتا ہوں۔
اِک بات پرانی سُناتا ہوں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






