میں اکژ سوچتی رہتی ہوں
Poet: کلثوم انور By: وشمہ خان وشمہ, pakistanمیں اکژ سوچتی رہتی ہوں
تجھکو بھول جاؤں گی
ارادہ کر بھی لیتی ہوں
تجھے یکسر بھلانے کا
نہ پھر وعدہ نبھانے کا
ارادہ کر کے میں لیکن
ارادہ بھول جاتی ہوں
تجھے پھر سوچتی ہوں میں
تجھے پھر دیکھ لیتی ہوں
مجھے تو نے جو بخشے ہیں
لپٹ کر اپنے زخموں سے
مسلسل روتی رہتی ہوں
مگر جب آنکھ کھلتی ہے
میں اس ساری کہانی کو
محبت کی نشانی کو
سر سے بھول جاتی ہوں
ارادہ کر تو لیتی ہوں
ارادہ بھول جاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







