میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiمیں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
جس صبح سورج کہ ماتھے پر کوئی دکھ زدہ شکن نہ ہو
اپنی جلوہ گری پر کوئی شرمندگی نہ ہو
خیرہ کردہ روشنی سے اپنی آنکھیں نہ چرانی پڑیں
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
جس صبح کی خبر میں
رات کا کوئی ڈراؤنا قصہ نہ ہو
کسی کہ قتل کا کسی کی آبروریزی کا حصہ نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
اﷲ اکبر پر سب بے خوف لبیک کہیں
کسی گھر میں ڈرو خوف کا پہرہ نہ ہو
کوئی فردگھر سے نکلتے ڈرتا نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
گولیوں کی گھن گرج نہ ہو
سڑکوں پہ گاڑیوں کہ جلنے کی خاک نہ ہو
ہر طرف خوف و ہراس نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
نفرتوں کا کسی کو پتہ نہ ہو
زبانوں اور فرقوں میں دل بٹا نہ ہو
محرم ہو یا ربیع الاول کوئی خوف کا مارا نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
ایمان کی تفریق نہ ہو ، کوئی سوداگری نہ ہو
آئین و قانون کہ پیرو کاری ہو
کہیں چوری چکاری نہ ہو
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
کوئی بھیکاری نہ ہو، کوئی بیماری نہ ہو، کوئی بیچاری نہ ہو
نامعلوم افراد سے چھٹکارا چاہتا ہوں
میں ایسی نئی صبح کا متمنی ہوں
میں ایسی نئی صبح چاہتا ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







