میں تجھ سے غافل تو نہیں
Poet: SUNDER KHAN By: SUNDER KHAN, KSAمیں تجھ سے غافل تو نہیں
بس انداز جداگانہ ھے
پھول کلیاں گلستاں تیتلیاں
شبنم جھرنے بارش چڑیاں
ان سب میں گم ھوں
کہ مزاج شاعرانہ ھے
میں تجھ سے غافل تو نہیں
محبت چاھت الفت راحت
رات خواب آنکھیں ماھتاب
یہ سب میرے ہمراہی ہیں
کہ میری سوچ عاشقانہ ھے
میں تجھ سے غافل تو نہیں
بس انداز جداگانہ ھے
حسن رنگینیاں جادو نظریں
کنگن پائل چوڑی کاجل
انکی پوجا میں رھتا ھوں
کہ دل انکا دیوانہ ھے
میں تجھ سے غافل تو نہیں
لفظ شعر اور غزلیں گیت
آواز ترنم ساز سنگیت
میرے لبوں پے رھتے ہیں
میں انکا پروانہ ھوں
میں تجھ سے غافل تو نہیں
بس انداز جداگانہ ھے ۔۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







