میں تمہاری زندگی میں اہم ہوں ناں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillایک وہ دور تھا
وہ بات بات پہ پوچھتی تھی
میں تمہاری زندگی میں اہم ہوں ناں
اور میں دھیرے سے کہتا
نہیں
اور وہ مسکرا کے کہتی
چل جھوٹے
اور اب یہ دور ہے
کہ جدائی کی خلیج وسیع تر ہو گئی ہے
مگر اب بھی وہ ستمبر کی چار تاریخ نہیںبھولتی
برتھ ڈے وش کے بعد وہ ہمیشہ پوچھتی ہے
میں تمہاری زندگی میں اہم ہوں ناں
اور میں دھیرے سے کہتا ہوں
نہیں
مگر اب وہ مسکراتی نہیں
رو دیتی ہے
اور بچوں کی طرح سسکتے ہوئے کہتی ہے
چل جھوٹے
میں سب جانتی ہوں
میں سب جانتی تھی
اور فون اسکے ہاتھوں میں کپکپانے لگتا ہے
سمے ٹھہر جاتا ہے
فضا میں ان کہی ۔ ان سنی فضائیں رقص کرنے لگتی ہیں
سگریٹ کے جھلستے ہوئے بدن سے پیدا ہوتے ہوئے
دھویں کے مرغولوں کی مانند
بے ہئیت ۔ بے سمت ۔ بے نام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






