میں تم سے پیار کرتی ہوں
Poet: Sheikh Huma Ali By: Sheikh Huma Ali, Karachiتمہاری آنکھ کا ہر اک اشارہ جان لیتی ہوں
تمہاری ان کہی باتیں بھی جانا مان لیتی ہوں
تمہارے مان کی خاطر میں اپنی جان دیتی ہوں
تمہیں پھر بھی نہیں لگتا میں تم سے پیار کرتی ہوں
کبھی مبہم سی باتوں میں یونہی اقرار کرتی ہوں
تمہیں تب بھی نہیں لگتا میں تم سے پیار کرتی ہوں
اگر تم جان جاؤ میرے دل میں سب چھپی باتیں
اگر تم مان جاؤ میری آنکھوں کی کہی باتیں
تو میں جیون کی ہر اک سانس تیرے نام کر دوں گی
میں تم سے پیار کرتی ہوں میں یہ اعلان کر دوں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






