میں تیرے پاس سے گزروں
Poet: Shahid Abbas By: Shahid Abbas, Kunjah Gujratمیں تیرے پاس سے گزروں میں اس احساس سے گزروں میری ھستی پگلتی ھے
تیری آنکھوں کی مدھم لو سے میری جاں نکلتی ھے
مں قیدی ھوں سمندر کا مجھے ساحل سے کیا مطلب
می آنکھوں سے جو نکلوں تو بدن سے روح نکلتی ھے
تیری آنکھوں کے سپنوں کو میں چننا چھوڑ دوں گر تو
میرے مولا تیری دنیا بھءت بے مول لگتی ھے
تیری پلکوں کی جنبش جو تھمے موسم بدلتا ھے
کھلی آنکھیں جو رکھو تو تبھی یہ شام ڈھلتی ھے
عناہت آنکھ کی مجھ پے جو نظریں نرم رکھتی ھے
روایت یہ پرانی ھے کے قتل عام کرتی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






