میں جب بھی گھر کو صاف کرتی ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں جب بھی گھر کو
صاف کرتی ہوں
تیری آنے کی آس کرتی ہوں
یہی سوچ کر ہر
ٹیبل و ُکرسی سے
تیری بات کرتی ہوں
میرے کمرے کی کھڑکی
جو ہمشیہ بند رہتی ہیں
میں ُاسے تیرے آنے پر
کھولنے کا اظہار کرتی ہوں
دوپہر میں جب پرندے
بیٹھتے ہیں ٹیرس پے
میں انہیں دانہ ڈالتے وقت
ہمارے ملنے کی دعا کرتی ہوں
وہ جو گلی میں ایک درخت ہے
پھولوں سے سجا ہوا
تیرے آنے پے ُاسے پھولوں
کی برسات کرنے کا کہتی ہوں
کبھی کبھی دل میں آتا ہے
شاید ُتو ابھی آ جائے
یہی سوچ کر میں
اپنے ہر نیے سوٹ کو
ہنگر میں ٹانگ رکھتی ہوں
ہر روز میٹھے میں اک
نئی چیز بناتی ہوں اور پھر
اپنے حصے میں سے
تیرا حصہ نکال رکھتی ہوں
ہر بار میرے پوچھنے پے
جب تم کہتے ہو لکی
کیا میں صبح آ جاوں ؟
میں ُاس صبح کے انتظار میں
ہر صبح کا بےچینی
سے انتظار کرتی ہوں
میں جب بھی گھر کو صاف کرتی ہوں
میں تیرے آنے کی آس کرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






