میں جدھر بھی دیکھوں نظر آئے تو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیری سوچوں
میں نظر آئے تو
میرے خوابوں
میں نظر آئے تو
میرے خیالوں
میں نظر آئے تو
میری آنکھوں
میں نظر آئے تو
میرے کاجل
میں نظر آئے تو
سورج کی کرنوں
میں نظر آئے تو
چاند ستاروں
میں نظر آئے تو
ہؤاؤں میں بادلوں
میں نظر آئے تو
اڑتے پرندوں
میں نظر آئے تو
پھولوں میں خشبیوں
میں نظر آئے تو
شبنم کی بوندوں
میں نظر آئے تو
بہتی ندیاں
میں نظر آئے تو
دل کی دنیا
میں نظر آئے تو
اندھرے میں اجالے
میں نظر آئے تو
دیپوں کی روشنی
میں نظر آئے تو
میں جدھر بھی
دیکھوں نظر آئے تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






