میں جلتی رہی وہ جلاتا رہا
Poet: anam By: anam, karachiمیں جلتی رہی وہ جلاتا رہا
میرےارمانوں کی راکھ اڑاتا رہا
میں سنتی رہی وہ سناتا رہا
میرے دامن پر بے وفائی کے داغ لگاتا رہا
میں روتی رہی وہ رولاتا راہا
مجھے آنسوؤں کا دریا بناتا رہا
میں دھوکا کھاتی رہی وہ دھوکا دیتا رہا
محبت کی آڑ میں مجھے تماشا بناتا رہا
میں بہکتی رہی وہ بہکاتا رہا
میرے جزبات کا فائدہ اٹھاتا رہا
میں تڑپتی رہی وہ تڑپاتا رہا
مجھے درد کا باب بناتا رہا
میں منتظر رہی وہ انتظار کرواتا رہا
مجھے پیاسا صحرا بناتا رہا
میں خاموش رہی وہ کہتا رہا
میرے وجود کو سناٹا بناتا رہا
میں جیت گئی وہ ہار گیا
میری موت پر جو اپنے آنسوؤں سے
پیاسے صحرا کو گلستاں بناتا رہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






