میں دھرتی میلی میلی سی۔۔۔
Poet: Muhammad Baber Zaman By: Muhammad Baber Zaman, Sahiwalمیں دھرتی میلی میلی سی
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن
تو چنچل شور ہواؤں کو
میں کنکر پاؤں کا
تُو سات سُروں کا رُوپ کوئی
میں تپتی، جلتی دھوپ کوئی
تُو خُوشبو نرمل کلیوں کی
میں دُھول اُداس گلیوں کی
تُو صبح کا پیغام کوئی
میں بوجھل ڈھلتی شام کوئی
تُو جنگل کا مور کوئی
میں صحراؤں کا شور کوئی
تُو چاند نگر کی حُور کوئی
میں آس میں بیٹھا دور کوئی
میں دھرتی میلی میلی سی
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






