میں شاعر ہوں مجھے تنہا ہی رہنا راس آتا ہے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمحافل اور ہنگاموں میں دل گھبرا سا جاتا ہے
میں شاعر ہوں مجھے تنہا ہی رہنا راس آتا ہے
زمانے کا چلن کچھ اور ہے اپنا چلن کچھ اور
ہے لوگوں کو لگن پیسے کی پر اپنی لگن کچھ اور
ہوں سادہ دل مجھے دنیا کی رسموں سے نہیں مطلب
فریبوں ، جھوٹے وعدوں اور قسموں سے نہیں مطلب
کسی کی ٹوہ میں رہنا مری فطرت نہیں لوگو !
ناجائز مال کھا جانا مری عادت نہیں لوگو !
بہت عاجز ہوں مجھ کو طنز کرنا ہی نہیں آتا
تکبر میں کسی سے بات کرنا بھی نہیں بھاتا
میں انسانوں کی تکلیفوں پہ روتا اور سسکتا ہوں
محبت کا بھی اک غم ہے جسے چپ چاپ سہتا ہوں
خلوص و پیار کے نغمات گائے ہیں ہمیشہ ہی
مگر ان کے صلے میں غم اٹھائے ہیں ہمیشہ ہی
محبت کا یہاں بدلہ تو بس نفرت ہی پایا ہے
ملے ہیں خار جب بھی پھول الفت کا کھلایا ہے
یہ سب سچ ہے مگر مایوس اب تک میں نہ ہو پایا
امنگوں کا ترانہ دوستو ! ہر دور میں گایا
میں شاعر ہوں وطن کو ماں سمجھ کر پیار کرتا ہوں
مجھے جو کچھ ملا اس سے ملا اقرار کرتا ہوں
وطن کو جب پڑی میری ضرورت کام آؤں گا
رہے قائم ہمیشہ اس کی خاطر جاں لٹاؤں گا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






