میں مانتی ہوں زندگی خوابوں میں کٹ گئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاکیسے کٹے گی زندگی مجھ کو جواب دو
ہو درج جس میں حال مرا وہ کتاب دو
صحرائے عاشقی میں نہ تشنہ لبی رہے
اس بار اپنے پیار کا مجھ کو نصاب دو
سب بھول جائیں دونوں ہی ماضی کے تذکرے
اس سال کا جواب تو میرے جناب ! دو
چلنا ہے میرے ساتھ تو پھر سوچ کر چلو
رہنا ہے میرے ساتھ تو اپنا ہی خواب دو
وہ جرم جو کہ مجھ سے کبھی ہو نہیں سکا
اس داستانِ کرب کا لبِ لباب دو
میں مانتی ہوں زندگی خوابوں میں کٹ گئی
اے وشمہ اپنی ذات کا اب تو حساب دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






