میں نکل گیا ہوں مدار سے
Poet: Rehan Abbas By: rehan, lahoreمیں نکل گیا ہوں مدار سے، مرے راستوں پہ غبار ہے
اسی کشمکش میں پڑا ہے دل کہ یہ بھول ہے یا فرار ہے؟
جسے راستوں نے جکڑ لیا ، اسے منزلوں کا شعور کیا
جو سلگ سلگ کے ہی بجھ گیا وہ چرا غ ہے نہ شرار ہے
بڑی کم نظر ہے وہ عاشقی جو خیال و خواب کی حد میں ہو
کہ حقیقتوں کے دیار میں کہاں وہمِ دل کا شمار ہے
جو چلا تھا درد سمیٹنے، وہی آج درد سے چور ہے
جسے فکر سارے جہاں کی تھی وہی آج خود پہ ہی بار ہے
یہ فلک کسی سے وفا کرے نہ زمیں کسی کی سدا رہے
بڑا مختصر سا قیام ہے بڑی بے مزہ سی بہار ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






