میں نےلکھی ہےایسی کتاب محبت
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamمیں نےلکھی ہے ایسی کتاب محبت
جس میں پوشیدہ ہیں حجاب محبت
جسےپڑھتےہی سب پڑھنے والے
سبھی جان لیں گئےآداب محبت
اپنےپیارے محبوب کےنام لکھاہے
اپنی پیاری کتاب کا انتساب محبت
اس میں پیار کےسوا کچھ نہیں
اس میں سبھی ہیں باب محبت
آج وہ ہم سےنظرہی نہیں ملاتے
جو نینوں سے پلاتےتھےشراب محبت
میری غزلیں مجھےپیاری کیوں نہ ہوں
میں لگاتاہوں انہیں خضاب محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






