میں نے جب بھی کتاب کھولی ُاسی کا دیا گلاب نکلا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaمایوسی اور اک نئی امید کے ساتھ چاند نکلا
ہر دن کی طرح یہ دن بھی ویران نکلا
ُاس کی چوکھٹ پر میں کب تک بیٹھی رہوں
ہر آنے جانے والے کی نظر میں سوال نکلا
زمانے کو میں ُاسے اپنا بھی تو نہیں بتا سکتی
جس کے دل میں میرا لیکن زبان پر کسی اور کا نام نکلا
مت پوچھو میرے درد میں بہت سے درد ہیں شامل
میرا غم مٹانے والا تو فقط میرا خدا نکلا
توڑ دی قسم نجانے کس سوچ میں - میں نے
پھر بھی نکلا نا کچھ نتجاء سوائے دل پیشمان نکلا
میں نے ڈھونڈا بہت خود کو خود میں
میرے عکس ، بر عکس ، لہجے میں صرف ُاسی کا گمان نکلا
یہ بہار آئی ہے پھر سے وہی داستان لے کر
میں نے جب بھی کتاب کھولی ُاسی کا دیا گلاب نکل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






