میں نے زندگی اک شخص کی پرچھائیوں میں گزار دی
Poet: پنچھی By: Abdul Wadod, Rabwahجو ملی مجھے تیری آنکھ کی گھرائیوں میں گزار دی
شبِ وصل تیرے حسن کی رعنائیوں میں گزار دی
یونہی لمحہ لمحہ سِسک سِسک یونہی تنہا تنہا تڑپ تڑپ
میں نے زندگی اک شخص کی پرچھائیوں میں گزاردی
تیری یادوں کے ہجوم میں بڑا چین تھا میرے معتبر
اِن سے سنبھلی یہ زندگی تو تنہائیوں میں گزار دی
تیرے بعد میرے حال کا میرے ہمنوا تجھے کیا پتا
جو تھی چند سانسوں کی زیست وہ رسوائیوں میں گزار دی
پنچھی تو میرے حا ل پر ۔۔ دامن بھگو لیتا ہے کیوں
میں نے زندگی تو خود سے ہی بے وفائیوں میں گزار دی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






