میں نے قلم سے اک سوال لکھا
Poet: ABDUL SALAM KHAN By: Abdul Salam Khan, Karachiآج سوچتے سوچتے اک خیال لکھا
میں نے قلم سے اک سوال لکھا
لکھا کہ دل کیوں جلاتے ھو تم
ہر شب جو خواب میں اتے ھو تم
یقین جانو سخت درد دیتے ھو تم
بڑا بے چین سا کر جاتے ھو تم
تو نیندیں کیسی نہ جائے
وہ لمحے کون بھلا پائے
ہونٹوں کے نرم جاموں سے
جو تم شراب دے جاتے ھو
ابھرتے خواب دے جاتے ھو
وہ جب پورے نہں ھوتے
تو آنکھیں بھیگ جاتی ہے
آس بھی ٹوٹ جاتی ہے
تمہیں کیسے بتاؤں میں
کہ دل بھی ٹوٹ جاتا ہے
مجھ سے بھی روٹ جاتا ہے
تو "خان" ایسا کیوں کرتے ھو
ہر شب جو خواب میں آتے ھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






