میں نے کاٹا تھا دل کو آرے سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaشہر جاں کا کوئی مکیں ہے یہاں
کیا محبت کی سرزمیں ہے یہاں
میرے پیچھے ہے ڈوبتا سورج
میرے آگے مرا یقیں ہے یہاں
سانپ ہجرت میں مر گئے ہوں گے
چاک در چاک آستیں ہے یہاں
میں نے کاٹا تھا دل کو آرے سے
زخم سینے کا زہر گیں ہے یہاں
شہرِ حُسن و جمال شے کیا ہے
مجھ سے بڑھ کر کوئی حسیں ہے یہاں؟
میری آنکھوں میں رت جگے ہیں مگر
میرے خوابوں میں تُو مکیں ہے یہاں
وه ہے پردیس میں کہیں بیتاب
اور وشمہ بہت حزیں ہے یہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






