میں وقت کے خصار سے آگے نکل گیا
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباددیکھا جو میرا حال تو وہ بھی دہل گیا
نرمی زباں میں آگئی لہجہ پگھل گیا
آداب الفتوں کے سکھاتا تھا وہ مجھے
پھر آپ اپنے قول سے کیسے بدل گیا
سہمی ہوئی فضائیں ہیں پھیلی ہوئی گھٹن
وہ جب گیا تو شہر کا نقشہ بدل گیا
آنکھوں کے طاقچوں میں جلائے تھے کچھ چراغ
پر ظلمتوں کی آگ سے ہر خواب جل گیا
اپنے وجود کو اسی مٹّی میں چھوڑ کر
میں وقت کے حصار سے آگے نکل گیا
خوشبو تمھاری یاد کی پھیلی تھی چارسو
پیکر تمہارے حسن کا شعروں میں ڈھل گیا
رعنائیاں وہ چھین کے میرے وجود کی
چہرے پہ میرے ہجر کی کالک کو مل گیا
اس یارِ خوش جمال سے ملنا جو تھا مجھے
قدموں نے ساتھ چھوڑا تو میں سر کے بل گیا
میں ذات سے نکل کے ملا تھا اسے عمیر
وہ خود مرے وجود کے سانچے میں ڈھل گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






