میں پتھر تھی ، مجھے پتھر رہنے دیتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں پتھر تھی ، مجھے پتھر رہنے دیتے
موم بنانے کا احسان کیوں کیا ؟
زرہ دیکھوں ! ڈوب نا جایئں کنارے پر ہی کوئی
مجھ سے نظر ملا نے کا احسان کیوں کیا ؟
میرے دل کا آئنیہ خالی تھا ، ُاس میں لکی
اپنا عکس چھپانے کا احسان کیوں کیا ؟
چمکتی آنکھیں ، اور دھندلے خواب تھے میرے
میری آنکھیوں کو سنسان کرنے کا احسان کیوں کیا ؟
زندگی پہلے تو میری ہی زندگی تھی لکی
خود کو میری زندگی بنانے کا احسان کیوں کیا ؟
میں چراغ کس طرح جلا کے رکھوں راہوں میں
میرے شہر میں ہوا چلانے کا احسان کیوں کیا ؟
دو دن - دو بول محبت کے بول کر لکی
مہنیوں خنجر سے وار کا احسان کیوں کیا ؟
میرے جذبات بہت پاک تھے - جو تجھ پے ظاہر ہوئے
انہیں اک کہانی کا دینے کا احسان کیوں کیا ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






