میں پیار سے ترے نذدیک آ ہی جاتی ہوں
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanنقاب چہرے سے ہنستے ہوئے ہٹاتی ہوں
میں پیار سے ترے نذدیک آ ہی جاتی ہوں
تو کتنا دور ہے مجھ سے مگر حقیقت ہے
میں تجھ کو اپنے بہت ہی قریب پاتی ہوں
سفر میں مجھ کو بھی تو ہمسفر بنا لیتا
میں اپنے شعروں میں اب حال دل سناتی ہوں
وہ اک سوال کہ جس کا جواب ہے باقی
وہی سوال میں لے کر یہ لب ہلاتی ہوں
کبھی بھی تھاما نہیں ہاتھ میرا الفت سے
جہاں بھی ہے تو چلا آ تجھے بلاتی ہوں
میں مر کے بھی تجھے شائد نہ بھول پاؤں گی
یقین اپنی محبت کا یوں دلاتی ہوں
بہت دنوں سے طبیعت اداس ہے میری
بہت دنوں سے مری جاں تجھے بلاتی ہوں
کیا ہے پیار تو سارہ ملیں گے غم لاکھوں
میں اپنے دل کو یونہی تو نہیں جلاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







