میں چاند ہوں میں اپنے ستاروں کے پاس ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادنیا میں تیرے عشق کے ماروں کے پا س ہوں
میں چاند ہوں میں اپنے ستاروں کے پاس ہوں
آئے ہو مجھ کو ڈھونڈنے گلشن میں کس لئے
میں پھول ہوں میں اپنے ہی خاروں کے پاس ہوں
جھلسا ہوا وجود ہوں موسم کے درمیاں
جب سے تری نظر کے شراروں کے پاس ہوں
جب سے تری وفا کا زمانہ ملا مجھے
میں ایک ہو کے اب تو ہزاروں کے پاس ہوں
دنیا کی ساری رونقِ چاہت کو چھوڑ کر
اب دیکھ لوکہ درد کے ماروں کے پاس ہوں
اس کی جفا کے وشمہ سمندر میں ڈوب کر
خوش بخت ہوں کہ پھر بھی کناروں کے پاس ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







