میں چاہتی ہوں اس سے بھی کوئی جفا کرے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaاس زندگی کی راہ میں کوئی دعا کرے
میری وفا کا وہ بھی کبھی حق ادا کرے
قربان جاؤں آج بھی تیرے نصیب پر
جور و جفا ہی میرا مقدر سدا کرے
کھیلا ہے کھیل اس نے جو میری وفاؤں سے
میں چاہتی ہوں اس سے بھی کوئی جفا کرے
جس نے مرے خیال کو سوچا نہ کچھ کہا
پھر اپنی زندگی سے وہ کیسے گلہ کرے
جس زندگی میں ، میں بھی ہوں قربان آپ پر
اس زندگی کی سیج پہ مجھ سے ملا کرے
جو چاہتا ہے تیرگی چھٹ جائے رات کی
وہ صورتِ چراغ ہی نکلے ، جلا کرے
جس حال میں وجود ہے بکھرا ہوا یہاں
اس حال میں ہی آ کے وہ مل لے ، خدا کرے
جب جانتا ہے روٹھی ہوں اس کی خطاؤں سے
میں مان جاؤں وہ بھی تو کوشش ذرا کرے
جس شخص کے لئے یہاں آنکھیں بچھائی ہیں
وہ وشمہ میرے جال میں ہر دم رہا کرے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






