میں چلا گلستان
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadhمیں چلا گلستان جہاں دلفریب آواز آرہی تھی
دیکھا جو سامنے تو بیٹھی میرے گیت گا رہی تھی
مجھے دیکھ کے چمک اٹھیں تیری حسین نگاہیں
تو بازو وا کیے میری طرف آ رہی تھی
سوچا تجھے لے لوں اپنے بازوؤں کے حصار میں
مگر میرے دل کی دھڑکن بند ہوئی جا رہی تھی
تیری نظروں میں نظریں جو میں نے گاڑیں
تو قریب آ کر بھی مجھ سے شرما رہی تھی
تیرے حسیں رخسار پہ رکھ دیا رخسار میں نے
تیرے بدن سے مجھے پیار کی خوشبو آرہی تھی
خدایا ہم کو اسی حالت میں رکھنا تا ابد
جاوید نے بتایا پگلے تجھے تو خواب آرہی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







