میں ڈھونڈتی ہوں تجھے یار اجنبی بن کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاکسی کی یاد جو اتری ہے شبنمی بن کر
یہ کون رہتا ہے مجھ میں بھی اجنبی بن کر
یہ دل بہلتا نہیں تیرے بن بہاروں میں
میں ڈھونڈتی ہوں تجھے یار اجنبی بن کر
مری حیات میں اے رنگ بھرنے والے سن
میں بہہ رہی ہوں تری یاد میں ندی بن کر
مری نگاہ سے کیوں خود کو یوں چھپاتے ہو
"زمینِ خشک کو سیراب کر نمی بن کر"
تری جفا کے اندھیرے میں کیوں بکھر جاؤں
"کبھی تو آ مری آنکھوں کی روشنی بن کر "
جس اک خیال پہ لکھتے رہے ہیں ساحر و فیض
وہ اب خیال میں رہتے ہیں شاعری بن کر
ہمیشہ میں نے تری رب سے آرزو کی ہے
یہ زندگی میں لٹا دوں گی اب خوشی بن کر
جو میرے حال پہ شاداں تھے یہ کبھی وشمہ
وہ اشک آج بہے ہیں یہاں ندی بن کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






