میں کم بولتا ہوں
Poet: By: Hukhan, karachiوہ اکثر کرتا ہے شگوہ میں کم بولتا ہوں
حسن کے دربار میں بے زبان سا ہو جاتا ہوں
شاید جانتا ہے میرے اندر بہت شور ہیں
شاید میں اسے سنتا ہی بہت ہوں
لفظوں میں اس کے میں خود کو تولتا ہوں
دیر کر دیتا ہوں اکثر جب اس کو سمجھتا ہوں
لفظ کچھ انمول سے اس کے لیے ڈھونڈتا ہوں
سچ ہے بہت کچہ کہنا بھول جاتا ہوں
حسن معصوم کااپنا ہے رعب جانتا ہوں
جب بھی لفظوں کو موتیوں سے پروتا ہوں
ہار جاتے ہیں پھر بھی لفظ مانتا ہوں
خان‘‘کر لو ہمت خود سے بس یہ کہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






