میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
تمہاری آنکھیں کہتی ہیں میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
میرا دِل بھی یہی کہتا ہے میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
سب کہتے ہیں تمہارا دِل کانچ کا نازک سا گھر ہے
کانچ کے نازک گھر میں میں بھی رہنا چاہتی ہوں
میں کچھ کہنا چاہتی ہوں
سب کہتے ہیں تمہاری آنکھیں آئینے سی شفاف ہیں
میں اِس آئینے میں اپنا عکس پِرونا چاہتی ہوں
میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
میں نے سَنا ہے تمہاری بصیرت صحرا جیسی کَشادہ ہے
تَمہاری سوچ کی گہرائی سمندر سے بھی زیادہ ہے
میں تمہاری فکر کے صحرا میں کھو جانا چاہتی ہوں
تمہاری سوچ کے سمندر میں خود کو ڈوبونا چاہتی ہوں
میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
تمہاری آنکھیں اماوس میں نور کا نظارہ ہیں
تاریکی میں تَمہاری یادیں چاند کا اِستعارہ ہیں
نور کے نظاروں کو نظروں میں سمونا چاہتی ہوں
چاند کی ٹھنڈی روشنی میں خود کو بھِگونا چاہتی ہوں
میں کَچھ کہنا چاہتی ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






