میں کیسے کہتی ُاسے بدلہ ہوا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآواز وہی تھی
خیال وہی تھا
میں کیسے کہتی ُاسے بدلہ ہوا
جبکہ ُاس کا انداز وہی تھا
پھول وہی تھے
خشبوں وہی تھی
وقت گزر گیا بہت مگر
اب بھی ُاس کا جنون وہی تھا
جھک جھک کے ُاٹھتی نظر تھی
وہ راستہ تھا ، یا منزل تھی
جہاں انجان تھے سارے مگر
اپنا صرف وہی تھا
الفاط وہی تھے
مہتاب وہی تھا
میں کس قدر تھی غم زدہ
جان کر انجان وہی تھا
جو کرتا ہیں خوابوں میں لا کھوں باتیں
دیدار ہوا تو
بس خاموش وہی تھا
وہ دنیا کے رنگوں میں
کس قدر الجھ گیا لکی
کہ اپنی ہی تصویر دیکھ کر پریشان وہی تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






