میں ہوں اک عشق کا قطرہ
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, WALES UKمیں ہوں اک عشق کا قطرہ تمہیں دریا بنا دوں گا
تیرا مجنوں اگر ہوں میں تمہیں لیلیٰ بنا دوں گا
بدن شعلہ ادا شبنم حسیں گل ہو شرر ہو تم
میری راتوں نے سوچا جس کو اکثر وہ سحر ہو تم
نزاکت پھول کی پائی بڑی نازک کلی ہو تم
جہاں پرواز کرتا ہے تصور نگر ہو تم
ہواؤں میں کہو تو خواب کا چہرہ بنا دوں گا
تیرا مجنوں اگر ہوں میں تمہیں لیلی بنا دوں گا
تمہاری آنکھ سے جاناں نشے کے گھونٹ پینے ہیں
بہت گہرے جدائی کے ابھی تو زخم سینے ہیں
تمہاری دید کی لڑیاں حسیں گھڑیاں ملیں ہم کو
تیری زلفوں کے سائے میں امر لمحے بھی جینے ہیں
محبت کی کہانی کو نیا قصہ بنا دو گا
تیرا مجنوں اگر ہوں میں تمہیں لیلیٰ بنا دوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






