میں ہوں پاگل ہوا، چلے جاؤ
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالمیں ہوں پاگل ہوا، چلے جاؤ
مجھ میں میں نا رہا، چلے جاؤ
جانے کیوں تیرے آنے سے آج میں
اور بھی بجھ گیا، چلے جاؤ
اب مرا مجھ پہ اختیار نہیں
ہوش اپائج ہوا، چلے جاؤ
کس لئے آئے ہو یہاں پے تُم؟
میں تو اب نا رہا، چلے جاؤ
اب میں تیرا نہیں رہا یعنی
اپنا تھا، ہو چکا، چلے جاؤ
جاؤ ڈھوںڈو مجھے کہیں جا کر
میں کہیں کھو گیا، چلے جاؤ
مت رکو یاں سے بھاگ جاؤ تم
یہ ہے وحشت کدہ، چلے جاؤ
ہو سکے گر تو یاد نہ رکھنا
جو بھی میں بک دیا، چلے جاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






