نئی صدی کی اڑان دیکھو مزاج سب کے بگڑ رہے ہیں
Poet: Shahzad anwar khan By: Shahzad anwar khan, Sailani nagar,akola,maharashtra,Indiaنئی صدی کی اڑان دیکھو مزاج سب کے بگڑ رہے ہیں
بگاڑ ایسا کہ رفتہ رفتہ بدن کے کپڑے سکڑ رہے ہیں
یہ جاگیریں،یہ تخت شاہی،یہ سلطنت تھی سبھی ہماری
غلام تھے یہ کبھی ہمارے جو آج اتنا اکڑ رہے ہیں
سماج کے یہ تمام شاعر جلا کے خون جگر کو اپنے
سجا کے لفظوں کے ہیرے موتی غزل کے دامن میں جڑ رہے ہیں
قدم بڑھانا سنبھل سنبھل کر،ہے پر خطر راہ عشق انور
سنا ہے کہ عاشیقوں کو اپنے وہ گیسؤں میں جکڑ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






