نئے دِنوں کے نئے سفر میں دھیان رکھنا
Poet: Love Shayari By: Love Shayari, Islamabadنئے دِنوں کے نئے سفر میں دھیان رکھنا
خاموش چُپ چاپ
کُچھ نہ کہتی اِن ساعتوں نے
سونپ ڈالے نئے تقاضے
رفاقتوں کے دھیان رکھنا
کہ اپنے حِصے کے سب تقاضے نبھاہنے ہیں
ساتھ چلتے ہوئے سفر میں
ہر اک ڈگر پر چاہتوں کے گُلاب رکھنا
ورق ورق اعتماد جس میں
حرف حرف میں ہو جانثاری
نئی خوشیاں نئے مناظر
نئی مثالیں نئے حوالے
بس ایک ایسی ہی محبتوں کی ،اک کتاب لکھنا
نئے دِنوں کے نئے سفر میں دھیان رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






