نادان محبت - ٣
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiپلا کے جام الفت کا
دغا کا زہر دیتی ہے
دکھا کے بھوری وہ آنکھیں
زندگی مشکل کرتی ہے
دکھا کے زلفیں گھنی سی
ان ہی میں گھونٹ دیتی ہے
بڑی ظالم ہے یہ محبت
مٹا کے شوخیاں دل کی
سرمئی شام کرتی ہے
ہنسنا اور شوخی باتیں کرنا
بے مول کرتی ہے
رلا کے بول پڑتی ہے
ذرا ہنس کے تو دکھلا دو
اور ہم خاطرِ الفت
زندگی کا دم بھرتے ہیں
بڑی ظالم ہے یہ محبت
پھر بھی ہوہی جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






