نایاب پتھر
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiسنگ باری کے بھی اسباب نکل آتے ہیں
" بعض پتھر بڑے نایاب نکل آتے ہیں"
جب بھی جاتا ہوں کبھی اپنے پرانے گھر میں
میں نے دفنائے تھے جو خواب نکل آتے ہیں
جب بھی سوچا کہ کبھی بھی نہ ملوں گا ان سے
ان سے ملنے کے کچھ اسباب نکل آتے ہیں
جب بھی دیکھا ہے پسِ پردہ تو دشمن سارے
میرے اپنے سبھی احباب نکل آتے ہیں
تو نے سمجھا تھا کہ پتھر کی کوئی مورت ہوں
میری آنکھوں سے بھی سیلاب نکل آتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






