نا آشنا عمر کی دہلیز چڑہ کر میں نے عذاب پینا سیکھ لیا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiنا آشنا عمر کی دہلیز چڑہ کر میں نے عذاب پینا سیکھ لیا ہے
عجیب بسے ہر آنکھ میں مئکدے میں نے شراب پینا سیکھ لیا ہے
خود کو دق بھی کرتا تو مزاج مجھے داؤ کے بیچ چڑہا دیتے
گمراہی کی مؤثر سرکشی میں ہر باب پڑہنا سیکھ لیا ہے
اب تم سے کچھ چھپی نہیں ہم نے قائم رکھی زندگی بھی کیسے
ادائے جرم میں غروب ہوکر ہر ذلالت کو ثواب دینا سیکھ لیا ہے
برہم کرتے تو بھی رنجشیں خوشیاں کہاں سے لے آتی
قلیل وحشت اور نَدامت شاید دنیا نے انصاف کرنا سیکھ لیا ہے
اس عاجزی کی ہر عدالت میں اگر اُجرت ملی بھی تو ایسے کہ
احراموں اور عبادت گاہوں سے گذر کر احتیاط کرناسیکھ لیا ہے
ان بالا نشینوں سے حق قدامت مانگنا جرم ہے سنتوشؔ
اتنی بیگانہ حالتوں میں بھی اب میں نے جینا سیکھ لیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






