نا بُھول پاؤں گا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaتیرے ساتھ گزاری حسین شام نہ بُھول پاؤں گا
میں تیرے گلابی ہونٹوں کے جام نہ بُھول پاؤں گا
نشہ اب بھی ہے جو پیئے تھے میں لبِ جام
اُس رات کا لگا الزام نہ بُھول پاؤں گا
اُسے لگتا ہے کہ وقت گزاری کے لیے آئے تھے ہم
پاگل تیرے ساتھ بیتے لمہے تمام نہ بُھول پاؤں گا
یہ سچ ہے کہ تب شاید محبت نہ تھی تم سے
پر اب سے زندگی بھر تیرا نا م نہ بُھول پاؤں گا
تجھے محبت تھی مجھ سے میں ہی انجان تھا
فصلِ فراق اپنی نادانی کا ا نعام نہ بُھول پاؤں گا
مجھے اک مو قع دے اپنی غلطی سنوارنے کا
میں جیتے جی یہ اک کام نہ بُھول پاؤں گا
نہال آخری سانس پے ہے ا ب کے آجا تو جانم
مر کے بھی میں تیرے احسان نہ بُھول پاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






