نا پوچھ مجھ سے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaنا پوچھ مجھ سے میں تجھے
اتنا پیار کیسے کرتی ہوں
تيرا انتظار کيسے کرتی ہوں
تیری راہ دیکھ دیکھ کر
اپني آنکھوں کو نڈھال کيسے کرتی ہوں
بن بادل آنکھوں سے
برسات کیسے کرتی ہوں
محفل میں ہو کر بھی
تنہائیوں کو اختیار کیسے کرتی ہوں
ريت کے زروں پر
اپنے وقت کو شمار کيسے کرتی ہوں
پت چڑ کے موسم کو
بہار کیسے کرتی ہوں
خود کو فنا کر کے
تجھے ياد کيسے کرتی ہوں
تلخیوں کی سولی چڑھ کے
خود کو تیرا طلبگار کیسے کرتی ہوں
نا پوچھ مجھ سے ميں
منصور کی طرح تجھے
پیار کیسے کرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






