نثار تم بھی محبت نگر گئے ہوتے
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiنثار تم بھی محبت نگر گئے ہوتے
تو اپنا حال پریشان کر گئے ہوتے
تو اپنا صحنِ چمن خوشبووں سے بس جاتا
اگر یہ درد کے دریا اتر گئے ہوتے
فقط یہ آس ہی اب ذندگی کا حصہ ہے
تمہارے قرب میں رہ کر سنور گئے ہوتے
تم آئے ہو تو دلاسا ملا ھے سانسوں کو
وگرنہ ہم تو کبھی کے گزر گئے ہوتے
تو سر زمینِ قمر بھی اداس کر جاتی
اگر یہ لوگ تجھے دیکھ کر گئے ہوتے
نہ چھیڑ رندِ بلا نوش کو تو اے ناصح
یہ اپنے ہوش میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






