نجانے وہ آئینے سے نظریں کیسے ملاتا ہو گا
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.Aنجانے وہ آئینے سے نظریں کیسے ملاتا ہو گا
میری آنکھوں سے خود کو دیکھ کہاں پاتا ہو گا
دل کی بات جو دل ہی میں رہ گئی
نجانے وہ بیٹھ کر اب کہاں گاتا ہو گا
میری آرزوں کی شام جو ڈھلتی رہی
میری خواہشیوں کو وہ کہاں سمجھاتا ہوگا
مددتوں کی رفاقت اک پل میں توڑ کر
مصروف زندگی میں مجھے یاد کہاں کرتا ہوگا
میرا دل جو ہر لمحے ُاس کی طلب کرئے
لیکن میرے لیے وہ جیتا کہاں مرتا ہو گا
چھوڑ دیے یوں تو ہر رابطے ُاس سے مگر
میرے انتظار میں وہ پلکیں کہاں بیچھاتا ہوگا
کبھی غصے ، کبھی مذاق ، کبھی ویسے ہی
میری طرح بھلا اب کس کو کہاں ستاتا ہوگا
لکی ! کوئی منانے نہیں آئے گا اب ُاسے
شاید اس لیے وہ کسی کو چھوڑ کر کہاں جاتا ہوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






