نشانِ سرفرازی
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: مرزا عبدالعلیم بیگ, Pakistanچمکا ہے سبز ہلالی پرچم، فخر کی ادا ہے
گونجتی فضاؤں میں نعرۂ وفا ہے
برسوں کی خامشی کا آج جوابی حرف آیا
دھرتی کے سینے سے خود اک نئی صدا ہے
ہندوستان نے جب للکارا، ہم نے بھی دکھایا
جرأت کا جو علم تھا، وہی تو رہنما ہے
شیر جوانوں نے قدم بہ قدم وفا لکھی
ہر بوندِ لہو میں ایک نئی دعا ہے
سرحد پہ جو بجلی سی کوندی، وہ غیرت تھی
ایمان کی چمک تھی، جو دشمنوں پہ چھا ہے
غرور خاک میں ملا، تکبر ہار بیٹھا
حق کی جو ہے طاقت، وہی تو بادشاہ ہے
نہ توپ، نہ ٹینک، نہ دھوکہ چلا وہاں
جہاں دعاؤں کا پہرہ، جہاں حیا ہے
ماں نے بیٹے وار دیے، پھر بھی مسکرائی
قربانی کی ایسی مٹی ہی تو وفا ہے
دھڑکن دھڑکن میں ہے نغمۂ پاکستان
ہر بچہ کہہ رہا ہے، وطن ہی آسرا ہے
نہتی دعاؤں نے وہ کام کر دکھایا
جو دشمن کے ہتھیاروں میں بھی نہ تھا ، نہ ہے
یہ جنگ فقط جنگ نہیں، یہ ایک پیام ہے
جو چاہو امن، تو ہاتھ میں ہاتھ آ رہا ہے
مگر اگر غرور سے پھر بڑھو گے آگے
یاد رکھو، یہ قوم جاگتی ہوا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






