نصیب ۔۔۔
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.پیدا ہوئے وہ دونوں اسی ایک ڈال پہ
گلاب کی کلی
اور اِک
اس کا محافظ
اصل ہے ان کی ایک پر
زمین و آسماں
ایک کے حصول کا زمانہ ہے طالب
حسین سی صورت شکل
دل پسند مہک
جودیکھ لے اگر کوئی تو دیکھتا جائے
چھوئے تو پہار سے
توڑے جو ڈال سے تو بڑی احتیاط سے
سنبھال کے رکھے کسی کے واسطے تحفہ
بنائے ذات کی زینت
شفا ہے یہ بدن کی اور ہے روح کی تسکین
بکھرے بھی اگر توٹ کر تو زینتِ قبر
اور دوسر
کہ دیکھنا گوارا نہیں ہے
قریب جو آیا کوئی غلطی سے ہی سہی
ہٹ کر گزر گی
دامن کو بچا کر
جو چھو گیا کوئی
تو گالیاں ملیں
تحقیر و نفرتیں
کوسنے دھتکار
حالانکہ کانٹا کرتا ہے کلی کی حفاظت
بنا دیا گیا ہے اذیت کی علامت
گو کہ خود خالق نہیں یہ اپنی ذات ک
نہ ہی
خواہش تھی یہ اس کی
پر کیا کرے کانٹ
کہ
یہی ہے حقیقت
یہی تو ہے قسمت
یہی تو ہے نصیب ۔۔۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






