نظر میں رکھتے ہیں
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aبہت سے خواب سہانے نظر میں رکھتے ہیں
ہم ان کے سارے فسانے نظر میں رکھتے ہیں
مجھے تو آج بھی یاد ہیں بیتے وہ لمحے
ہم بھولے بسرے زمانے نظر میں رکھتے ہیں
کبھی تو ہو گا مداوا میری خلش کا صنم
ہم سارے زخم پرانے نظر میں رکھتے ہیں
نہیں ہے آج تجھے فرصت ہمیں منانے کی
ہم تیرے سارے بہانے نظر میں رکھتے ہیں
یقیں ہے ہو گا ملن ان سے آتے موسم میں
ہم ان کے سارے ٹھکانے نظر میں رکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






