نظر کا گناہ گار
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi آ یا ہے جو، نظر کا گناہ گار ہو گیا
مید ا ن حشر کو چہ د لد ا ر ہو گیا
یا دو ں کی چلمنو ں سے در آ یا کو ئی خیا ل
خفتہ تھا د ل کا ولو لہ بید ا ر ہو گیا
ہو نے لگا ہے حسن کا نیلا م ا س طر ح
ہر شہر جیسے مصر کا با ز ا ر ہو گیا
ا نصا ف کی طلب میر ے د ل سے نکل گئی
منصف جو ظا لمو ں کا طر فد ا ر ہو گیا
صحرا ئے نجد میں ا سی آ و ا ز کی ہے گونج
حد سے بڑھا جو عشق تو آ ز ا ر ہو گیا
طا ہر تمہا ر ی با ت کا کیسے کر یں یقیں
سچ جھو ٹ کے جہا ن میں ا ب عا ر ہو گیا
بل کھاتی ز لف یا ر کا ہر ا یک پیچ و خم
میر ے لئے تو سلسلہ د ا ر ہو گیا
جب سے پڑ ی ہے اُ ن کی میر ے حا ل پر نظر
ہر شخص میر ا شہر میں غم خو ا ر ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







