نقشِ جاناں
Poet: سعدیہ اعجاز By: Sadia Ijaz, Lahore,University of Educationنقشِ جاناں نے دھوم مچا رکھی ہے ،
دل کی دیوار پر ، ہر ایک نے ، اک تصویر سجا رکھی ہے
ہر اک رقصاں ہے ، اپنی ہی دھن میں پربت کے قریب
کسی نے درد دنیا کو،کسی نے متاع دنیا کو اپنی لیلا بنا رکھا ہے
کون کس سمت ہے ،کس زوق میں! آرزوئے خیال میں مست
ہم سب نے ایک نہ اک زنجیر ، پاوں میں سجا رکھی ہے
ہم تو خاک ہوۓ ،دھول ہوۓ، دل کے جوبن میں
اس ویراں جگہ میں یہ کس نے آتش جلا رکھی ہے ؟
کہیں جو خزاں آئ ، تو درد ہوا ،باغباں کے پھولوں کو
کہیں یورش ، کہیں درد نے کس قدر دھوم مچا رکھی ہے
اب تو یہ حال ہے کہ کوئ ،حال ہی نہیں
اب تو یہ بات ہے کہ کوئ ،بھی بات نہیں
لفظ رقصاں ہیں خود اپنے ہی دروازے پر
آسماں نے پھر کیوں بارش برسا رکھی ہے؟
کبھی جو دور کسی سناٹے سے آہ و زاری سنی
تو دل پر غموں کی بھی خوب آمد جاری ہوئ
خوشحال چہروں کو جو دیکھا سعدیہ، دکھ ہوا !
کس قدر حالت اپنی زمانے سے چھپا رکھی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






