نقش یادوں کے تیرے یار مٹا دیں کس طرح
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK نقش یادوں کے تیرے یار مٹا دیں کس طرح
تو نہی بھولانے کا پھر تجھکو بھلا دیں کس طرح
لوگ کہتے ہیں تیرے پیار میں مجنوں مجھ کو۔
ھے حقیقت بھی یار پھر جھٹلا دیں کس طرح؟
یوں بھی معلوم ھے زمانے کو یار اپنی الفت۔۔۔
بھید نہیں جب کچھ تو اسے چھپا دیں کس طرح؟
وہ جو اپنی ہی دنیا میں رھتا ھے مست مگن۔
حال دل اپنے یار اسے پھر سنا دیں کسطرح؟
کتنی محبت سے لکھے ہوںگے تو نے یار اپنی طرف۔
وہ خط جو سرمایہ ہیں اسے ہم جلا دیں کسطرح ؟
تیری الفت کا چراغ جلائے رکھنا ھے ھمیشہ۔۔
تو ہی شعلہ زیست ھے تجھکو بجھا دیں کسطرح؟
تجھ پر شک کرنا ھے گویا خود پر شک کرنا۔
کیوں عدو کیخاطر تجھپر انگلی اٹھا دیں کسطرح؟
اسد تجھکو پایا ھے ہو منتوں اور مرادوں سے۔
سجدہ شکر تو بنتا ھےبجا نہ لائیں کس طرح؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






