ننھا سا جی بھی رونے کے بہانے مانگتا رہا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaننھا سا جی بھی رونے کے بہانے مانگتا رہا
جو گزر گئے وہی زمانے مانگتا رہا
کل یہ کمسن ترستا رہا مراسم کے لیے
آج خدا جانے کیوں ترک تعلق کے بہانے مانگتا رہا
مر کے جیے جی کے مرے حال ہمارا ہوا برا
دل کو دیکھو یہ ظلم دل ہر انداز پرانے مانگتا رہا
سوچ کے اک بات نکلی ہر بات کی اک بات نکلی
اب کیا کہیں کیا کیا نہ کہیں مسجد میں مہ خانے مانگتا رہا
ہم نہ ہوتے نہ آپ کے چرچے ہوتے ارشد
میری وجہ سے کون کون تجھے مانگتا رہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






